ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / صدارتی عہدہ کے لئے بی جے پی نے دروپدی مرمو کو بنایا امیدوار؛ اپوزیشن کی طرف سے یشونت سنہا کریں گے مقابلہ؛ کیا سنہا جیت پائیں گے ؟

صدارتی عہدہ کے لئے بی جے پی نے دروپدی مرمو کو بنایا امیدوار؛ اپوزیشن کی طرف سے یشونت سنہا کریں گے مقابلہ؛ کیا سنہا جیت پائیں گے ؟

Wed, 22 Jun 2022 19:45:00    S.O. News Service

نئی دہلی 22 جون (ایس او نیوز)  بی  جے پی  نے  صدارتی انتخاب کے لئے  قبائلی طبقات سے  آنے والی خاتون    دروپدی مرمو کو  اپنا اُمیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن پارٹیوں نے  یشونت سنہا کو  کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  جھارکھنڈ کی  سابق گورنر دروپدی مرمو کا نام پیش کرکے بی جے پی نے ایک طرف قبائلی طبقہ  تو دوسری طرف خواتین  کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ  نئے صدر جمہوریہ کا انتخاب   18 جولائی کو ہونا ہے اور اپوزیشن کی طرف سے اُمیدوار بنائے گئے یشونت سنہا 27 جون کی صبح 11:30  بجے  اپنا پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔

پتہ چلا ہے کہ منگل کو ہوئی اپوزیشن کی میٹنگ میں جب  ترنمول کانگریس نے یشونت سنہا کا نام آگے بڑھایا تو  19 اپوزیشن پارٹیوں نے اس پر اتفاق کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق   میٹنگ  سے قبل یشونت سنہا نے ایک  ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ترنمول کانگریس نے انہیں جو عزت اور احترام دیا ہے اس کے لئے ممتا بنرجی کا شکر گذار ہوں ۔ ٹوئٹ میں انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اب وقت آگیا  ہے جب ایک بڑے مقصد کے لئے مجھے پارٹی سے ہٹ کر اپوزیشن اتحاد کے لئے کام کرنا چاہئے۔

بتاتے چلیں کہ 1984 میں آئی اے ایس چھوڑنے کے بعد، یشونت سنہا نے جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد جنتا دل اور چندر شیکھر کی سماج وادی جنتا پارٹی (راشٹریہ) کا حصہ رہے۔ تاہم، بابری مسجد کے انہدام اور رام جنم بھومی ایجی ٹیشن کے باوجود ان کا بی جے پی کے ساتھ تین دہائیوں سے زیادہ کا دور رہا۔

ذرائع کی مانیں تو  سنہا کو پوری کانگریس کی زیر قیادت متحدہ ترقی پسند اتحاد، ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیوں اور دیگر بی جے پی مخالف پارٹیوں جیسے آر جے ڈی، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ لوک دل، جنتا دل (سیکولر) وغیرہ کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔  البتہ  شیوسینا پارٹی میں موجودہ ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے شیوسینا کے ارد گرد اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔ لیکن  اگر  فی الحال شیو سینا کو ایک طرف رکھ دیں، تو یشونت  سنہا  سابقہ اپوزیشن امیدوار - کانگریس لیڈر میرا کمار  سے کافی بہتر مقابلہ کرسکتے  ہیں- یاد رہے کہ  2017 میں کانگریس  کی صدارتی اُمیدوار  میرا کمار کو  34 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

بتایا جارہا ہے کہ بہت کچھ ان جماعتوں پر منحصر ہوگا جنہوں نے ابھی تک اپنے کارڈ نہیں کھولے ہیں - بیجو جنتا دل، وائی ایس آر سی پی، تلنگانہ راشٹرا سمیتی، عام آدمی پارٹی، تیلگو دیشم پارٹی، اور بہوجن سماج پارٹی ان میں شامل ہیں۔  کہا جارہا ہے کہ  بی جے پی نے اب  جھارکھنڈ کی سابق گورنر دروپدی مرمو کو چنا ہے، جو اڈیشہ کی  ایک قبائلی رہنما ہیں، تو اُڈیشہ کے وزیراعلیٰ  پٹنائک ان کے حق میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ پتہ چلا ہے کہ بی جے ڈی کے صدر پٹنائک نے ٹویٹ کے ذریعے   اپنی ریاست کے تمام اراکین اسمبلی سے درخواست کی ہے کہ وہ دروپدی کے حق میں اپنا ووٹ  دیں۔

دوسری طرف، یشونت سنہا  صدارتی انتخابات میں بہاری پرائڈ  کارڈ کھیلنے کی کوشش کریں گے اور نتیش کمار کی جنتا دل (یونائیٹڈ) کو  اپنے حق میں لے کر  این ڈی اے کے صفوں کو  توڑنے کی کوشش کریں گے۔اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ اور چندر شیکھر حکومت میں وزیر خزانہ رہنے کی وجہ سے یشونت سنہا کے حق میں جو چیز کام کرتی ہے وہ ان کی سنیارٹی ہے۔


Share: